ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں اور دوسری طرف سیاست کی گرم بازاری ہے ملک کے سنجیدہ حلقوں نے بڑی کوشش
کی ہے کہ اس سیلابی تباہی کے دنوں میں سیاست کو چھوڑ کر ساری توجہ سیلاب زدگان کی بحالی اور امداد پر دی جائے مگر پاکستان میں سیاست کا چسکا اتنا گہرا ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قسم کھا رکھی ہے کہ جلسے پر جلسہ کرنا ہے کوئی دن بھی نہیں جاتا جب ان کا کہیں جلسہ نہ ہو اور وہ ان جلسوں میں جو بیانیہ اختیار کرتے ہیں وہ اس قدر متنازع اور سیاسی مخالفین کے لئے تازیانے کی حیثیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی تناؤ بڑھ رہا ہے پاکستان اس وقت جن مسائل میں گھرا ہوا ہے ان سے نجات کا ایک یہی واحد راستہ ہے کہ قومی یکجہتی پیدا کی جائے قومی مسائل کو تمام سیاسی قوتیں مل کر حل کرنے کی کوشش کریں۔
Credit by Express News
دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ پاکستان میں جو سیلاب سے تباہی ہوئی ہے اس کا پیمانہ بہت بڑا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے امداد اور مکمل سپورٹ بھی مل رہی ہے لیکن جب یہی دنیا ہمارے داخلی انتشار کو دیکھتی ہے تو اسے حیرت بھی ہوتی ہوگی اور ہمارے حال پر تعجب بھی ہوتا ہوگا،ایک قوم جس کے ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ افراد سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں، لاکھوں مکانات صفحہء ہستی سے مٹ گئے ہیں، بارہ سو سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں،اربوں روپے کا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے امداد اور بحالی کے عمل میں نہ جانے کتنے سال لگیں گے مگر اس کے باوجود سیاست ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور انتشار ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،امداد کے نام پر ہر کوئی اپنی دکانداری چمکا رہا ہے۔ جب تک مجموعی طور پر اس بارے میں فیصلے نہیں ہوں گے اس وقت تک اس طوفانی عذاب کے اثرات سے نکلنا ناممکن ہے اگرچہ وفاقی حکومت نے مرکزی سطح پر فلڈ ریلیف کے کاموں کی خاطر ایک ادارہ بنا دیا ہے مگر یہ کافی نہیں، جب تک تمام سیاسی قوتیں یکجا ہو کر کچھ عرصے کیلئے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر امداد اور بحالی کے کاموں پر متفق نہیں ہوتیں۔
تحریک انصاف اپنا ایک ہی مطالبہ دہرا رہی ہے کہ فوری الیکشن کروائے جائیں
کیا موجودہ حالات میں فوری الیکشن ممکن ہیں۔ سندھ اور بلوچستان پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں نقصان کا اندازہ بھی صحیح طریقے سے ہو نہیں رہا اتنی بڑی تباہی کے بعد اچانک انتخابات کا اعلان کرنا کیا دنیا کی نظر میں ہمیں تماشا نہیں بنا دے گا؟یہ وہ سوال ہے جس پر ہماری سیاسی جماعتوں کو غور کرنا چاہیئے اس طرح تحریک انصاف جو انتخابات کے مطالبے پر ڈٹی ہوئی ہے کیا سندھ اور بلوچستان کے تباہ شدہ علاقوں میں رہنے والوں کو اس بات پر قائل کر سکتی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں جن کے گھر تباہ ہو گئے ہیں اور وہ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو چکے ہیں ان کے لئے تو آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں دوبارہ گھروں میں آباد کیا جائے، ان کے روزگار اور روزمرہ زندگی کو بحال کیا جائے پھر یہ بات بھی نہ سمجھ آنے والی ہے کہ عام انتخابات پر اربوں روپے کے اخراجات کے لئے وسائل کہاں سے آئیں گے جب کہ اس وقت اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ سیلاب زدگان کو آباد کیا جائے اور جتنے وسائل مہیا ہو سکتے ہیں بحالی اور امداد کے کاموں پر لگائے جائیں مگر یہ بات سیاستدانوں کو کون سمجھائے جن کے لیے اقتدار ہی سب کچھ ہے جس کے بغیر وہ ماہیء بیتاب کی طرح تڑپتے ہیں، یہ ہماری سیاست کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ وہ اپنے عوام کی حالت سے بے خبر ہو کر ایک ایسی دنیا میں مگن رہتی ہے جس کا عام آدمی کے دکھوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔





0 Comments